01:51 , 20 اپریل 2026
Watch Live

پنجاب بھر میں اسکول، کالج اور یونیورسٹیاں 31 مارچ تک بند

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے خطے میں جاری جنگ اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی معاشی مشکلات کے پیش نظر غیر معمولی اقدامات کا اعلان کر دیا ہے۔ ان اقدامات کا مقصد ایندھن کے استعمال میں کمی، سرکاری اخراجات پر قابو پانا اور عوام کو ممکنہ بحران سے بچانا ہے۔ اسی سلسلے میں حکومت نے پنجاب میں پیٹرولیم بحران کے پیش نظر ہنگامی اقدامات نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ صوبے میں صورتحال کو مؤثر طریقے سے سنبھالا جا سکے۔

حکومت پنجاب نے فیصلہ کیا ہے کہ پیٹرولیم بحران ختم ہونے تک صوبائی وزرا کے لیے سرکاری فیول بند رہے گا۔ اس کے علاوہ سرکاری افسران کی گاڑیوں کے لیے پٹرول اور ڈیزل الاؤنس میں فوری طور پر 50 فیصد کمی کر دی گئی ہے۔ وزرا اور اعلیٰ سرکاری افسران کے ہمراہ چلنے والی پروٹوکول گاڑیوں پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے اور سیکیورٹی کے لیے صرف ایک گاڑی رکھنے کی اجازت ہوگی۔

وزیراعلیٰ کی ہدایت پر سرکاری دفاتر میں ورک فرام ہوم پالیسی بھی متعارف کرائی گئی ہے جس کے تحت صرف ضروری عملہ ہی دفاتر میں حاضر ہوگا جبکہ باقی عملہ گھروں سے کام کرے گا۔ صوبے بھر میں اسکول، کالج اور یونیورسٹیاں 10 مارچ سے 31 مارچ تک بند رہیں گی تاہم امتحانات اپنے مقررہ شیڈول کے مطابق ہوں گے۔ تعلیمی اداروں کو آن لائن کلاسز لینے کی اجازت بھی دی گئی ہے۔

مزید پڑھیں: مشرقِ وسطیٰ کشیدگی: پاکستان کے ایئرپورٹس سے 102 پروازیں منسوخ

عوام کو سہولت فراہم کرنے کے لیے ای بزنس سروسز اور “مریم کی دستک” پروگرام کے تحت خدمات جاری رہیں گی۔ سرکاری اجلاس آن لائن یا ٹیلی کانفرنس کے ذریعے منعقد ہوں گے جبکہ سرکاری آؤٹ ڈور تقریبات پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ہارس اینڈ کیٹل شو جیسے ثقافتی پروگرام کو بھی مؤخر کر دیا گیا ہے۔

حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی نگرانی کے لیے ہر ضلع میں ڈسٹرکٹ پیٹرولیم مانیٹرنگ کمیٹیاں بنانے کا حکم دیا ہے جبکہ پی آئی ٹی بی کو ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم تیار کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے عوام سے اپیل کی ہے کہ غیر ضروری خریداری، ذخیرہ اندوزی اور لیٹ نائٹ شاپنگ سے گریز کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ مشکل حالات میں قوم کو اتحاد اور صبر کا مظاہرہ کرنا ہوگا کیونکہ پنجاب میں پیٹرولیم بحران کے پیش نظر ہنگامی اقدامات عوام کے مفاد اور معاشی استحکام کے لیے کیے جا رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں
اہم خبریں۔
ضرور دیکھیں
INNOVATION